جس قدر افسانۂ ہستی کو دہراتا ہوں میں — جگر مرادآبادی

جس قدر افسانۂ ہستی کو دہراتا ہوں میں اور بھی بیگانۂ ہستی ہوا جاتا ہوں میں

“The more I recount the tale of existence, the more a stranger to existence I become.”

— جگر مرادآبادی

معنی

میں زندگی کی کہانی کو جتنا زیادہ دہراتا ہوں، اتنا ہی اس زندگی اور اپنے وجود سے بیگانہ ہوتا جاتا ہوں۔

تشریح

اس شعر میں انسانی وجود کا ایک گہرا تضاد بیان ہوا ہے کہ انسان جتنا زندگی کے فلسفے اور اس کے قصے کو سمجھنے اور دہرانے کی کوشش کرتا ہے، زندگی اتنی ہی پرائی اور اجنبی محسوس ہونے لگتی ہے۔ جب ہم اپنے جینے کے عمل کو محض ایک ’افسانہ‘ بنا کر پرکھتے ہیں، تو ہم خود اس کھیل کے کھلاڑی نہیں بلکہ باہر کھڑے تماشائی بن جاتے ہیں۔ یہ شعر دراصل اس تنہائی کی عکاسی کرتا ہے جہاں ضرورت سے زیادہ گہری سوچ انسان کو اس کی اپنی ہی ہستی سے بےگانہ کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.