شاعر فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں — جگر مرادآبادی
“A poet of Nature am I; whenever in contemplation I glide, Becoming a soul, into each minute speck of existence I abide.”
معنی
میں فطرت کا شاعر ہوں اور جب بھی غور و فکر کرتا ہوں تو روح بن کر کائنات کے ہر ذرے میں سما جاتا ہوں۔
تشریح
اس شعر میں شاعر خود کو مظاہرِ قدرت کا رازدار بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب وہ تخیل اور فکر کی گہرائیوں میں اترتے ہیں، تو ان کی اپنی انفرادی ہستی مٹ جاتی ہے۔ وہ ایک لطیف روح بن کر کائنات کے ذرے ذرے میں حلول کر جاتے ہیں اور ہر شے کی دھڑکن محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ احساس انسان اور کائنات کے اس خوبصورت روحانی رشتے کی عکاسی کرتا ہے جہاں دوئی مٹ کر مکمل وحدت بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
