تا کجا یہ پردہ داری ہائے عشق و لاف حسن — جگر مرادآبادی

تا کجا یہ پردہ داری ہائے عشق و لاف حسن ہاں سنبھل جائیں دو عالم ہوش میں آتا ہوں میں

“How long this concealment of love, this boastful pride of beauty? / Let both worlds take heed and brace themselves, for I am coming to my senses now!”

— جگر مرادآبادی

معنی

عشق کا یہ پردہ اور حسن کا یہ غرور کب تک چلے گا؟ اب دونوں جہاں سنبھل جائیں کیونکہ میں ہوش میں آ رہا ہوں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر روایتی عاجزی اور مجبوری سے دامن چھڑا کر ایک پُرجوش خودداری کا اعلان کرتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ آخر کب تک عشق پردوں میں گھٹتا رہے گا اور حسن اپنی دلکشی کا غرور جتاتا رہے گا۔ دونوں جہانوں کو سنبھلنے کا چیلنج دے کر وہ بتاتا ہے کہ جب عاشق سچے ہوش اور خود آگاہی میں واپس آتا ہے، تو اس کا نیا تیور پوری کائنات میں ہلچل مچا دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.