تیری محفل تیرے جلوے پھر تقاضا کیا ضرور — جگر مرادآبادی
“Your gathering, your dazzling splendors—why then this urge to banish me? Look, cruel one, I rise and leave; look, I depart and set you free.”
معنی
یہ تمہاری ہی محفل ہے اور تمہارے ہی جلوے ہیں، تو پھر مجھے نکالنے کا تقاضا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ لو اے ظالم، میں خود ہی یہاں سے اٹھ کر چلا جاتا ہوں۔
تشریح
اس شعر میں محبوب کی بے رخی اور عاشق کی خودداری کا ایک نہایت پردرد منظر پیش کیا گیا ہے۔ محفل اور اس کے سارے جلوے بلاشبہ محبوب ہی کے ہیں، لیکن جب وہاں عاشق کو غیر ضروری سمجھ کر جانے کا تقاضا کیا جاتا ہے تو اس کی انا جاگ اٹھتی ہے۔ وہ کسی گلے شکوے یا منت سماجت کے بغیر، دل پر زخم کھا کر بھی وقار کے ساتھ محفل سے رخصت ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
