میری ہستی شوق پیہم میری فطرت اضطراب — جگر مرادآبادی

میری ہستی شوق پیہم میری فطرت اضطراب کوئی منزل ہو مگر گزرا چلا جاتا ہوں میں

“Ceaseless yearning is my very being, pure restlessness my soul; whatever destination comes my way, I keep passing beyond the goal.”

— جگر مرادآبادی

معنی

میرا وجود مسلسل لگن اور میری فطرت بے چینی ہے؛ کوئی بھی منزل آئے، میں اس سے آگے ہی گزرتا چلا جاتا ہوں۔

تشریح

جگر مراد آبادی اس شعر میں دل کی اس ازلی تڑپ اور بے چینی کو بیان کر رہے ہیں جو انسان کو کسی ایک جگہ ٹکنے نہیں دیتی۔ شاعر کا سارا وجود مسلسل شوق اور تڑپ سے عبارت ہے، جہاں کسی ایک منزل پر ٹھہر جانا گویا زندگی کی روانی کھو دینے کے مترادف ہے۔ اس لیے چاہے کتنی ہی پرکشش منزل کیوں نہ آئے، وہ رکے بغیر آگے نکل جاتے ہیں کیونکہ ان کے لیے اصل لطف سفر کی اس لامتناہی تلاش میں ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.