تیری صورت کا جو آئینہ اسے پاتا ہوں میں — جگر مرادآبادی
“Finding it to be a mirror that reflects your radiant face / Oh, with what immense pride do I dote upon my own heart!”
معنی
جب میں اپنے دل کو تمہارے چہرے کا آئینہ پاتا ہوں، تو مجھے خود اپنے دل پر بے حد ناز ہوتا ہے۔
تشریح
شاعر یہاں اپنے دل کو ایک شفاف آئینہ قرار دے رہا ہے جس میں محبوب کا دلکش چہرہ جھلکتا ہے۔ یہ کوئی تکبر نہیں، بلکہ محبت کا ایک معصوم سا فخر اور لاڈ ہے کہ اس کے دل کو اتنی پیاری صورت سنبھالنے کا شرف حاصل ہوا۔ دراصل جب محبوب کا حسن دل میں سما جائے، تو انسان کو اپنے ہی وجود سے بے پناہ محبت اور ناز ہونے لگتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
