جب مکان و لا مکاں سب سے گزر جاتا ہوں میں — جگر مرادآبادی

جب مکان و لا مکاں سب سے گزر جاتا ہوں میں اللہ اللہ تجھ کو خود اپنی جگہ پاتا ہوں میں

“When I transcend all realms of space and the spaceless void, O wonder of wonders! In my very own place, it is You I find.”

— جگر مرادآبادی

معنی

جب میں مکان اور لامکاں دونوں کی حدوں سے آگے نکل جاتا ہوں، تو نہایت حیرت کے ساتھ تجھے خود اپنی ہی جگہ پر پاتا ہوں۔

تشریح

یہ شعر تصوف کی اس معراج کی خوبصورت تصویر کشی کرتا ہے جہاں انسان مادی دنیا (مکان) اور لامحدود غیب (لامکاں) دونوں کی سرحدوں سے پار نکل جاتا ہے۔ جب سالک کائنات کی تمام وسعتوں کی سیر کر کے اپنی انا اور 'میں' کو فنا کر دیتا ہے، تو اس پر یہ حیرت انگیز راز کھلتا ہے کہ وہ خدا جسے وہ باہر تلاش کر رہا تھا، خود اسی کے اندر موجود ہے۔ مصرعۂ ثانی کا 'اللہ اللہ' اسی روحانی وجد اور حیرت کا پرتو ہے، جہاں دوئی کا پردہ اٹھتے ہی بندہ اپنی جگہ صرف ذاتِ حق کا جلوہ پاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.