غزل

دیدہ حیران نی تماشا کیا

دیدہ حیران نی تماشا کیا
مومن خاں مومن· Ghazal· 17 shers

Source: Kulliyat-e-Momin (old lithograph edition) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
दीदा-ए-हैराँ ने तमाशा किया देर तलक वो मुझे देखा किया
دیدہ حیران نی تماشا کیا دیر تلک وہ مجھی یکہا کیا
حیران آنکھوں نے یہ تماشا کیا کہ وہ دیر تک مجھے ہی دیکھتا رہا۔
2
ज़ब्त-ए-फ़ुग़ाँ को गह असर था किया हौसला क्या क्या न किया क्या किया
ضبط فغان کو گہہ اثر تہا کیا حوصلہ کیا کیا نہ کیا کیا کیا
کبھی کبھی فریاد کو روکنے نے اثر دکھایا؛ میں نے کتنا کتنا حوصلہ کیا اور کیا کیا نہ کیا، آخر کیا کیا۔
3
आँख न लगने से सब अहबाब ने आँख के लग जाने का चर्चा किया
آنکہہ نہ لگنی سی سب احباب نی آنکہہ کی لگ جانیکا چرچا کیا
آنکھوں میں نیند نہ آنے کی وجہ سے سب دوستوں نے اس بات کا چرچا کیا کہ مجھے کسی سے عشق ہو گیا ہے۔
4
मर गए उस के लब-ए-जाँ-बख़्श पर हम ने इलाज आप ही अपना किया
مرگئی اوسکی لب جان بخش پر ہم نی علاج آپ ہی اپنا کیا
میں اُس کے جاں بخش لبوں پر مر مٹا، اور یوں میں نے خود ہی اپنا علاج کر لیا۔
5
बुझ गई इक आह में शम्अ-ए-हयात मुझ को दम-ए-सर्द ने ठंडा किया
بجھ گئی اک آہ میں شمع حیات مجھکو دم سرد نی ٹھنڈا کیا
ایک ہی آہ میں زندگی کی شمع بجھ گئی؛ میری اپنی سرد سانس نے ہی مجھے ٹھنڈا کر دیا۔
6
ग़ैर अयादत से बुरा मानते क़त्ल किया उन को अच्छा किया
غیر عیادت سی بُرا مانتی قتل کیا اُن کی اچھا کیا
وہ میری بیماری میں کسی غیر کی عیادت کو بُرا مانتے، سو انہوں نے مجھے قتل کر دیا اور اچھا ہی کیا۔
7
उन से पर्दा-पोश को देखे कोई मुझ को मेरी शर्म ने रुस्वा किया
اُونسی پرپوش کو دیکھی کوئی مجھکو میری شرم نی رسوا کیا
اُس پردہ کرنے والے کو کوئی دیکھے؛ مجھے تو میری اپنی شرم نے رسوا کر دیا۔
8
ज़िंदगी हिज्र से इक मौत थी मर्ग ने क्या कार-ए-मसीहा किया
زندگی ہجر سی اک موت تہی مرگ نی کیا کار مسیحا کیا
جدائی میں زندگی ایک موت کی مانند تھی؛ سو موت نے تو مسیحا کا سا کام کر دیا کہ اُس دکھ بھری زندگی سے نجات دلا دی۔
9
पान में ये रंग कहाँ आप ने आप मेरे ख़ून का दावा किया
پانمین یہہ رنگ کہان آپ نی آپ میری خون کا دعوا کیا
آپ کے پان میں یہ سرخ رنگ کہاں سے آیا؟ لگتا ہے آپ نے میرے خون پر اپنا دعویٰ کر لیا ہے۔
10
जौर का शिकवा न करूँ ज़ुल्म है राज़ मेरा सब्र ने इफ़्शा किया
جور کا شکوہ نکرون ظلم ہی راز میرا صبر نی افشا کیا
میں ظلم کی شکایت نہیں کرتا، کیونکہ یہ بھی ایک ستم ہے؛ میرے صبر ہی نے میرے دل کے چھپے راز کو آشکار کر دیا۔
11
कुछ ही बन आती नहीं क्या कीजिए उस के बिगड़ने ने कुछ ऐसा किया
کچھ ہی بن آتی نہیں کیا کیجئے اوسکی بگڑنی نی کچھ ایسا کیا
اب کچھ بھی ٹھیک نہیں بن پڑتا، کیا کریں۔ اس کے بگڑ جانے نے ایسا کچھ کر دیا کہ سب خراب ہو گیا۔
12
जाती थी तेरी मेरे लिए जाँ ही ग़ैर से क्यों शिकवा-ए-बेजा किया
جاتی تہی تیری میری لین ہی غیر سی کیون شکوہ بیجا کیا
میری جان تیرے لیے جا رہی تھی، پھر میں نے غیر سے بے جا شکایت کیوں کی؟
13
रहम-ए-फ़लक और मेरे हाल पर तू ने करम ऐ सितम-आरा किया
رحم فلک اور میری حال پر تونی کرم ای ستم آرا کیا
آسمان کا رحم اور میری حالت پر—تُو نے اے ظلم ڈھانے والے مجھ پر کرم کیا۔
14
सच ही सही आप का पैमान-ए-वफ़ा मर्ग ने कब वादा-ए-फ़र्दा किया
سچ ہی سہی آپ کا پیمان ولی مرگ نی کب عدہ فردا کیا
مانا کہ آپ کا وفا کا وعدہ سچا ہے، مگر موت نے کب آنے والے کل کا وعدہ کیا ہے؟
15
दावा-ए-तकलीफ़ से जल्लाद ने रोज़-ए-जज़ा क़त्ल फिर अपना किया
دعوی تکلیف سی جلاد نی روز جزا قتل پھر اپنا کیا
جلاد نے تکلیف پہنچانے کے اپنے دعوے کے ساتھ، روزِ قیامت پھر سے اپنے ہی آپ کو قتل کر لیا۔
16
मर्ग ने हिज्राँ में छुपाया है मुँह लो मुँह उस पर्दा-नशीं का किया
مرگ نی ہجرانمین چھپایا ہی مونہہ لو مونہا وسی پردہ نشین کا کیا
موت نے ہجر کے پردے میں اپنا منہ چھپا رکھا تھا؛ دیکھو، میں نے اُس پردہ نشیں کا منہ آخرکار کھول دیا۔
17
दुश्मन-ए-मोमिन है सही बुत सदा मुझ से मेरे नाम ने ये क्या किया
دشمن مومن ہی سہی بت سدا مجھسی میری نام نی یہہ کیا کیا
سچ ہے کہ بت ہمیشہ سے مومن کا دشمن رہا ہے—میرے اپنے نام نے میرے ساتھ یہ کیا کر دیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.