دشمن مومن ہی سہی بت سدا — مومن خاں مومن
“True, the idol is ever the believer's foe— what has my very name done unto me?”
معنی
سچ ہے کہ بت ہمیشہ سے مومن کا دشمن رہا ہے—میرے اپنے نام نے میرے ساتھ یہ کیا کر دیا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنے ہی نام سے ایک پیاری سی شکایت کر رہا ہے۔ یہ بات درست کہ بت ہمیشہ سے مومن کا دشمن رہا ہے، مگر جب محبوب خود بت کی مانند ہو یا شاعر کے نام ہی میں کوئی ایسی بات پوشیدہ ہو جو اسے اس کے ایمان سے ٹکرا دے، تو وہ حیران ہے کہ میرے اپنے نام نے مجھے کس کشمکش میں ڈال دیا۔ یہ شعر پہچان اور عقیدے کے درمیان اس نازک کشاکش کو چھوتا ہے جہاں انسان خود سے ہی اجنبی ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
