مرگ نی ہجرانمین چھپایا ہی مونہہ — مومن خاں مومن
“Death has hidden its face within the parting's veil— behold, I have unveiled that cloistered one at last.”
معنی
موت نے ہجر کے پردے میں اپنا منہ چھپا رکھا تھا؛ دیکھو، میں نے اُس پردہ نشیں کا منہ آخرکار کھول دیا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر موت اور ہجر کو ایک ہی لمحے میں باندھ دیتا ہے۔ موت نے جدائی کے پردے میں اپنا چہرہ چھپا رکھا تھا، اور شاعر کہتا ہے کہ بالآخر اُس نے اُس پردہ نشیں—یعنی چھپی ہوئی موت یا محبوب—کا چہرہ بے نقاب کر دیا۔ گہری بات یہ ہے کہ ہجر ہی وہ گھونگھٹ ہے جس کے پیچھے موت اپنا اصل روپ چھپائے رکھتی ہے، اور وصال یا انجام کے لمحے میں ہی وہ چہرہ سامنے آتا ہے۔ ایک نازک سی اداسی اور اسرار اس شعر کی جان ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
