دیدہ حیران نی تماشا کیا — مومن خاں مومن
“My wonder-struck eyes made a spectacle of it all, For a long, long while that one kept gazing at me.”
معنی
حیران آنکھوں نے یہ تماشا کیا کہ وہ دیر تک مجھے ہی دیکھتا رہا۔
تشریح
اس شعر میں حیرت سے بھری آنکھیں خود ایک تماشا بن جاتی ہیں — دیکھنے والا اور دیکھا جانے والا ایک دوسرے میں گم ہو جاتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ محبوب دیر تک اسے ہی تکتا رہا، گویا حیرانی کے اس لمحے نے وقت کو تھام لیا ہو۔ یہاں نگاہوں کا یہ سلسلہ عشق کی اُس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جہاں آنکھیں ہی ساری داستان کہہ جاتی ہیں، اور حیرت خود ایک حسین کھیل بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
