غزل

ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی

ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی
جگر مرادآبادی· Ghazal· 17 shers· radif: न हुई

یہ غزل جلوۂ حقیقت کی بے پناہ تجلی اور عشق میں کامل سپردگی کے فلسفے کو پیش کرتی ہے۔ اس میں انسانی نگاہ کی ناتوانی کا اعتراف ہے جو اس حسنِ مطلق کی تاب نہیں لا سکتی، نیز یہ پیغام دیا گیا ہے کہ محبوب کی رضا کے لیے غم کو بھی خوشی جاننا ہی سچی محبت کی معراج ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
तिरे जमाल-ए-हक़ीक़त की ताब ही न हुई हज़ार बार निगह की मगर कभी न हुई
ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی ہزار بار نگہ کی مگر کبھی نہ ہوئی
مجھ میں آپ کے حقیقی حسن کے جلوے کو برداشت کرنے کی تاب ہی نہ تھی؛ میں نے ہزار بار نگاہ کی مگر کبھی اسے جھیل نہ سکا۔
2
तिरी ख़ुशी से अगर ग़म में भी ख़ुशी न हुई वो ज़िंदगी तो मोहब्बत की ज़िंदगी न हुई
تری خوشی سے اگر غم میں بھی خوشی نہ ہوئی وہ زندگی تو محبت کی زندگی نہ ہوئی
اگر تمہاری خوشی کی خاطر غم میں بھی خوشی نہ ملے، تو ایسی زندگی درحقیقت محبت کی زندگی نہیں ہے۔
3
कहाँ वो शोख़ मुलाक़ात ख़ुद से भी न हुई बस एक बार हुई और फिर कभी न हुई
کہاں وہ شوخ ملاقات خود سے بھی نہ ہوئی بس ایک بار ہوئی اور پھر کبھی نہ ہوئی
وہ شوخ ملاقات دوبارہ کبھی نہ ہو سکی، یہاں تک کہ خود اپنے آپ سے بھی نہ ہوئی؛ وہ بس ایک ہی بار ہوئی تھی اور پھر کبھی نہ ہوئی۔
4
वो हम हैं अहल-ए-मोहब्बत कि जान से दिल से बहुत बुख़ार उठे आँख शबनमी न हुई
وہ ہم ہیں اہل محبت کہ جان سے دل سے بہت بخار اٹھے آنکھ شبنمی نہ ہوئی
ہم ایسے اہل محبت ہیں کہ دل اور جان سے درد کی بہت سی تپش اور بخار اٹھے، مگر ہماری آنکھیں کبھی نم نہ ہوئیں۔
5
ठहर ठहर दिल-ए-बेताब प्यार तो कर लूँ अब उस के ब'अद मुलाक़ात फिर हुई न हुई
ٹھہر ٹھہر دل بے تاب پیار تو کر لوں اب اس کے بعد ملاقات پھر ہوئی نہ ہوئی
اے بے قرار دل، ذرا ٹھہر جا اور مجھے پیار تو کر لینے دے، کیا خبر کہ اس کے بعد پھر کبھی ملاقات ہو یا نہ ہو۔
6
मिरे ख़याल से भी आह मुझ को बोद रहा हज़ार तरह से चाहा बराबरी न हुई
مرے خیال سے بھی آہ مجھ کو بعد رہا ہزار طرح سے چاہا برابری نہ ہوئی
افسوس کہ میرے اپنے خیال سے بھی مجھ میں ایک فاصلہ برقرار رہا؛ میں نے ہزار طرح سے کوشش کی لیکن برابری نہ ہو سکی۔
7
हम अपनी रिंदी-ओ-ताअत पे ख़ाक नाज़ करें क़ुबूल-ए-हज़रत-ए-सुल्ताँ हुई हुई न हुई
ہم اپنی رندی و طاعت پہ خاک ناز کریں قبول حضرت سلطاں ہوئی ہوئی نہ ہوئی
ہمیں اپنی بے فکری یا عبادت و بندگی پر ذرا بھی غرور نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ تو اس مالک (خدا) کی مرضی پر ہے کہ وہ اسے قبول فرمائے یا نہ فرمائے۔
8
कोई बढ़े न बढ़े हम तो जान देते हैं फिर ऐसी चश्म-ए-तवज्जोह हुई हुई न हुई
کوئی بڑھے نہ بڑھے ہم تو جان دیتے ہیں پھر ایسی چشم توجہ ہوئی ہوئی نہ ہوئی
کوئی آگے بڑھے یا نہ بڑھے، ہم تو اپنی جان قربان کرتے ہیں؛ معلوم نہیں کہ ایسی توجہ اور عنایت کی نگاہ پھر کبھی نصیب ہوگی یا نہیں۔
9
तमाम हर्फ़-ओ-हिकायत तमाम दीदा-ओ-दिल इस एहतिमाम पे भी शरह-ए-आशिक़ी न हुई
تمام حرف و حکایت تمام دیدہ و دل اس اہتمام پہ بھی شرح عاشقی نہ ہوئی
تمام الفاظ، قصوں اور آنکھ و دل کی ساری توانائیاں صرف کر دینے کے باوجود، اتنے بڑے اہتمام پر بھی عشق کی وضاحت نہ ہو سکی۔
10
फ़सुर्दा-ख़ातिरी-ए-इश्क़ ऐ मआज़-अल्लाह ख़याल-ए-यार से भी कुछ शगुफ़्तगी न हुई
فسردہ خاطرئ عشق اے معاذ اللہ خیال یار سے بھی کچھ شگفتگی نہ ہوئی
خدا پناہ میں رکھے، عشق کی اداسی اور مایوسی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ محبوب کے خیال سے بھی دل میں کوئی شگفتگی یا خوشی پیدا نہ ہوئی۔
11
तिरी निगाह-ए-करम को भी आज़मा देखा अज़िय्यतों में न होनी थी कुछ कमी न हुई
تری نگاہ کرم کو بھی آزما دیکھا اذیتوں میں نہ ہونی تھی کچھ کمی نہ ہوئی
میں نے آپ کی نگاہِ لطف و کرم کو بھی آزما کر دیکھ لیا، مگر میری تکلیفوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہونی تھی اور نہ ہی ہوئی۔
12
किसी की मस्त-निगाही ने हाथ थाम लिया शरीक-ए-हाल जहाँ मेरी बे-ख़ुदी न हुई
کسی کی مست نگاہی نے ہاتھ تھام لیا شریک حال جہاں میری بے خودی نہ ہوئی
جہاں میری اپنی بے خودی بھی میرا ساتھ نہ دے سکی، وہاں کسی کی نشیلی نگاہ نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے سنبھال لیا۔
13
सबा ये उन से हमारा पयाम कह देना गए हो जब से यहाँ सुब्ह ओ शाम ही न हुई
صبا یہ ان سے ہمارا پیام کہہ دینا گئے ہو جب سے یہاں صبح و شام ہی نہ ہوئی
اے صبح کی ہوا، ان تک ہمارا یہ پیغام پہنچا دینا کہ جب سے تم گئے ہو، تب سے یہاں نہ صبح ہوئی ہے اور نہ شام۔
14
वो कुछ सही न सही फिर भी ज़ाहिद-ए-नादाँ बड़े-बड़ों से मोहब्बत में काफ़िरी न हुई
وہ کچھ سہی نہ سہی پھر بھی زاہد ناداں بڑے بڑوں سے محبت میں کافری نہ ہوئی
اے نادان زاہد! بات چاہے جو بھی ہو، مگر محبت میں جو کافری درکار ہوتی ہے وہ بڑے بڑوں سے بھی نہ ہو سکی۔
15
इधर से भी है सिवा कुछ उधर की मजबूरी कि हम ने आह तो की उन से आह भी न हुई
ادھر سے بھی ہے سوا کچھ ادھر کی مجبوری کہ ہم نے آہ تو کی ان سے آہ بھی نہ ہوئی
میری مجبوری کے مقابلے میں ان کی مجبوری کہیں زیادہ ہے، کیونکہ میں نے کم از کم ایک آہ تو بھری لیکن وہ تو آہ بھی نہ بھر سکے۔
16
ख़याल-ए-यार सलामत तुझे ख़ुदा रक्खे तिरे बग़ैर कभी घर में रौशनी न हुई
خیال یار سلامت تجھے خدا رکھے ترے بغیر کبھی گھر میں روشنی نہ ہوئی
اے محبوب کے خیال، خدا تجھے سلامت رکھے، کیونکہ تیرے بغیر اس گھر میں کبھی روشنی نہیں ہوئی۔
17
गए थे हम भी 'जिगर' जल्वा-गाह-ए-जानाँ में वो पूछते ही रहे हम से बात भी न हुई
گئے تھے ہم بھی جگرؔ جلوہ گاہ جاناں میں وہ پوچھتے ہی رہے ہم سے بات بھی نہ ہوئی
اے جگر، ہم بھی محبوب کی محفل میں گئے تھے، مگر وہ لوگوں سے ہمارے بارے میں ہی پوچھتے رہے اور ہم سے کوئی بات بھی نہ ہو سکی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.