ہم اپنی رندی و طاعت پہ خاک ناز کریں — جگر مرادآبادی
“Why should we pride ourselves on revelry or prayer? Accepted by the Sovereign Lord—it may or may not be.”
معنی
ہمیں اپنی بے فکری یا عبادت و بندگی پر ذرا بھی غرور نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ تو اس مالک (خدا) کی مرضی پر ہے کہ وہ اسے قبول فرمائے یا نہ فرمائے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر انسانی عاجزی اور بندگی کی حقیقت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ ہم چاہے زہد و عبادت کی راہ پر چلیں یا رندی و مستی کی، اپنے کسی بھی عمل پر گھمنڈ کرنا فضول ہے۔ اصل بات تو اس سچے بادشاہ یعنی خدا کی رضا ہے؛ کون سا عمل اس کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت پائے گا اور کون سا رد ہو جائے گا، یہ سراسر اسی کے کرم پر منحصر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
