کوئی بڑھے نہ بڑھے ہم تو جان دیتے ہیں — جگر مرادآبادی
“Whether anyone else steps forward or not, I gladly yield my life; who knows if such a glance of favor will ever grace me again.”
معنی
کوئی آگے بڑھے یا نہ بڑھے، ہم تو اپنی جان قربان کرتے ہیں؛ معلوم نہیں کہ ایسی توجہ اور عنایت کی نگاہ پھر کبھی نصیب ہوگی یا نہیں۔
تشریح
اس شعر میں محبوب کی ایک عنایت بھری نگاہ کی بے بہا قیمت کو کمال خوبصورتی سے سمیٹا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محفل میں کوئی اور قربانی کے لیے آگے بڑھے یا نہ بڑھے، ہم اپنی جان نچھاور کرنے میں لمحہ بھر دیر نہیں کریں گے۔ التفات اور محبت کی یہ نگاہ شاید زندگی میں پھر کبھی نصیب نہ ہو، اس لیے عاشق اس نایاب لمحے پر اپنا سب کچھ وار دینا چاہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
