وہ کچھ سہی نہ سہی پھر بھی زاہد ناداں — جگر مرادآبادی

وہ کچھ سہی نہ سہی پھر بھی زاہد ناداں بڑے بڑوں سے محبت میں کافری نہ ہوئی

“Be that as it may, O foolish ascetic, know this: Even the greatest could not tread love's path without turning heretic.”

— جگر مرادآبادی

معنی

اے نادان زاہد! بات چاہے جو بھی ہو، مگر محبت میں جو کافری درکار ہوتی ہے وہ بڑے بڑوں سے بھی نہ ہو سکی۔

تشریح

شاعر یہاں زاہدِ ناداں کو مخاطب کر کے عشق کی عظمت اور اس کے کڑے تقاضوں کو بیان کر رہا ہے۔ وہ تسلیم کرتا ہے کہ شاید اس میں کوئی ظاہری خوبی نہ ہو، لیکن محبت کے راستے میں خود کو یکسر مٹا دینا معمولی بات نہیں۔ عشق میں اپنی انا اور رسمی پابندیوں سے آزاد ہونے کی جو جرأت درکار ہوتی ہے، اسے دنیا کفر کہتی ہے اور یہ خطرہ مول لینے کا حوصلہ بڑے بڑے پارساؤں میں بھی نہیں ہوتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.