ادھر سے بھی ہے سوا کچھ ادھر کی مجبوری — جگر مرادآبادی

ادھر سے بھی ہے سوا کچھ ادھر کی مجبوری کہ ہم نے آہ تو کی ان سے آہ بھی نہ ہوئی

“Far greater than my own constraint is the helplessness they bear: for I at least could heave a sigh, while even a sigh to them was denied.”

— جگر مرادآبادی

معنی

میری مجبوری کے مقابلے میں ان کی مجبوری کہیں زیادہ ہے، کیونکہ میں نے کم از کم ایک آہ تو بھری لیکن وہ تو آہ بھی نہ بھر سکے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے محبوب کی بے بسی اور خاموش دکھ کو بڑی محبت اور دردمندی سے پیش کیا ہے۔ عاشق کو احساس ہوتا ہے کہ وہ تو دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے کھل کر آہیں بھر سکتا ہے، مگر محبوب پر معاشرے اور شرم و حیا کی ایسی پابندیاں ہیں کہ وہ کراہ بھی نہیں سکتا۔ یہ شعر شکوے کے بجائے محبوب کی لاچاری پر گہری ہمدردی اور دلی الفت کا خوبصورت مظہر ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.