گئے تھے ہم بھی جگرؔ جلوہ گاہ جاناں میں — جگر مرادآبادی

گئے تھے ہم بھی جگرؔ جلوہ گاہ جاناں میں وہ پوچھتے ہی رہے ہم سے بات بھی نہ ہوئی

“I too had gone, O Jigar, where the beloved's presence shone in grace; / Though they kept inquiring after me, we never spoke face to face.”

— جگر مرادآبادی

معنی

اے جگر، ہم بھی محبوب کی محفل میں گئے تھے، مگر وہ لوگوں سے ہمارے بارے میں ہی پوچھتے رہے اور ہم سے کوئی بات بھی نہ ہو سکی۔

تشریح

اس شعر میں قربت کے باوجود حسرت اور دوری کی کیسی دلگداز تصویر کھینچی گئی ہے۔ جگر فرماتے ہیں کہ ہم بھی محبوب کی پرنور جلوہ گاہ میں موجود تھے اور وہ محفل میں ہمارا ہی پتہ پوچھتے رہے، مگر آمنے سامنے کلام کا شرف پھر بھی حاصل نہ ہوا۔ یہ عاشق کی اس بے بسی کو دکھاتا ہے جہاں چاہت اور پیاس تو بے انتہا ہے، لیکن محفل کا رعب اور جھجھک ہونٹوں کو خاموش کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev17 / 17