ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی — جگر مرادآبادی

ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی ہزار بار نگہ کی مگر کبھی نہ ہوئی

“To bear the radiant splendor of your truth, I lacked the might; A thousand times I turned my gaze, yet never could endure the sight.”

— جگر مرادآبادی

معنی

مجھ میں آپ کے حقیقی حسن کے جلوے کو برداشت کرنے کی تاب ہی نہ تھی؛ میں نے ہزار بار نگاہ کی مگر کبھی اسے جھیل نہ سکا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر حقیقتِ مطلقہ یا ذاتِ باری تعالیٰ کے اس بے پناہ حسن و جلال کی بات کر رہے ہیں، جس کی تجلی برداشت کرنا انسان کی بساط میں ہی نہیں۔ دل میں دیدار کی پیاس اتنی شدید ہے کہ بندہ ہزار بار نگاہ اٹھا کر دیکھنا چاہتا ہے، مگر اس نور کی شدت کے آگے ہر بار آنکھیں جھک جاتی ہیں۔ یہ شعر ہماری بے بس انسانی نظر اور اس لامتناہی خوبصورتی کے درمیان موجود ایک پُراسرار اور پُرسوز کیفیت کا حسین اظہار ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 17Next →