کسی کی مست نگاہی نے ہاتھ تھام لیا — جگر مرادآبادی
“Someone's intoxicating glance reached out to hold my hand, / Where even my own self-forgetfulness could not keep me company.”
معنی
جہاں میری اپنی بے خودی بھی میرا ساتھ نہ دے سکی، وہاں کسی کی نشیلی نگاہ نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے سنبھال لیا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر تنہائی اور حیرت کی اس انتہا کو بیان کر رہا ہے جہاں انسان کی اپنی بے خودی بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ ایسے بے بس موڑ پر محبوب کی ایک مست نظر نے دستگیری کی اور اسے سنبھال لیا۔ یہ اس حقیقت کا خوبصورت اظہار ہے کہ جب انسان اندر سے بالکل گم ہو جائے، تو محبت کی ایک نگاہِ کرم اسے سنوار دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
