ٹھہر ٹھہر دل بے تاب پیار تو کر لوں — جگر مرادآبادی

ٹھہر ٹھہر دل بے تاب پیار تو کر لوں اب اس کے بعد ملاقات پھر ہوئی نہ ہوئی

“Hold still, O restless heart, let me love a while; / for who knows if after this we shall ever meet again.”

— جگر مرادآبادی

معنی

اے بے قرار دل، ذرا ٹھہر جا اور مجھے پیار تو کر لینے دے، کیا خبر کہ اس کے بعد پھر کبھی ملاقات ہو یا نہ ہو۔

تشریح

یہ شعر وصال کی اس گھڑی کی عکاسی کرتا ہے جس کے سر پر فراق اور جدائی کا خوف منڈلا رہا ہو۔ شاعر اپنے بے قرار دل سے التجا کرتا ہے کہ ذرا ٹھہر جائے تاکہ وہ محبوب کی قربت کو جی بھر کے سمیٹ لے اور پیار کر سکے۔ اس میں لمحۂ موجود کو پوری شدت سے جینے کی تمنا بھی ہے اور یہ اندیشہ بھی کہ زندگی کے اس موڑ کے بعد شاید پھر کبھی ملنا نصیب نہ ہو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.