تری نگاہ کرم کو بھی آزما دیکھا — جگر مرادآبادی

تری نگاہ کرم کو بھی آزما دیکھا اذیتوں میں نہ ہونی تھی کچھ کمی نہ ہوئی

“I even put your glance of grace to the test and saw: In my torments, no lessening was meant to be, and none befell.”

— جگر مرادآبادی

معنی

میں نے آپ کی نگاہِ لطف و کرم کو بھی آزما کر دیکھ لیا، مگر میری تکلیفوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہونی تھی اور نہ ہی ہوئی۔

تشریح

اس شعر میں ایک ایسے دل کی بے بسی بیان ہوئی ہے جس کی آخری امید بھی رخصت ہو چکی ہے۔ شاعر نے چاہا تھا کہ شاید محبوب کی ایک مہربان نظر اس کے سارے زخم بھر دے، مگر اس کرم کے بعد بھی دل کی تکلیفیں ذرا کم نہ ہوئیں۔ یہ دراصل اس اداس سچائی کا اعتراف ہے کہ جب دکھ مقدر بن جائے تو محبت کا مرہم بھی بے اثر ہو جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.