غزل
کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
یہ غزل محبوب کے سحر انگیز قرب میں خود رفتگی اور عشق کی کیفیتِ فنا کی دلکش عکاسی کرتی ہے۔ معشوق کی دلنواز موجودگی میں دین و دنیا اور ہوش و خرد کے تمام بندھن مٹ جاتے ہیں اور صرف عشق کا لامحدود وجود باقی رہ جاتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
कुछ इस अदा से आज वो पहलू-नशीं रहे
जब तक हमारे पास रहे हम नहीं रहे
کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
جب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے
آج وہ کچھ ایسے دلکش انداز میں میرے پاس بیٹھے کہ جب تک وہ میرے قریب رہے، میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور اپنے آپ میں نہ رہا۔
2
ईमान-ओ-कुफ़्र और न दुनिया-ओ-दीं रहे
ऐ इश्क़-ए-शाद-बाश कि तन्हा हमीं रहे
ایمان و کفر اور نہ دنیا و دیں رہے
اے عشق شاد باش کہ تنہا ہمیں رہے
اب نہ ایمان و کفر باقی رہا اور نہ دنیا و دین رہے؛ اے عشق، تو خوش رہ کہ اب میدان میں صرف ہم ہی باقی بچے ہیں۔
3
आलम जब एक हाल पे क़ाएम नहीं रहे
क्या ख़ाक ए'तिबार-ए-निगाह-ए-यक़ीं रहे
عالم جب ایک حال پہ قائم نہیں رہے
کیا خاک اعتبار نگاہ یقیں رہے
جب یہ دنیا ہی ایک حالت پر قائم نہیں رہتی، تو پھر یقین کی نظر پر بھلا کیا اعتبار رہ سکتا ہے۔
4
मेरी ज़बाँ पे शिकवा-ए-दर्द-आफ़रीं रहे
शायद मिरे हवास ठिकाने नहीं रहे
میری زباں پہ شکوہ درد آفریں رہے
شاید مرے حواس ٹھکانے نہیں رہے
میری زبان پر درد پیدا کرنے والے کا شکوہ رہتا ہے، شاید اب میرے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہے ہیں۔
5
जब तक इलाही जिस्म में जान-ए-हज़ीं रहे
नज़रें मिरी जवान रहें दिल हसीं रहे
جب تک الٰہی جسم میں جان حزیں رہے
نظریں مری جوان رہیں دل حسیں رہے
اے خدا! جب تک میرے جسم میں یہ غمگین جان رہے، میری نظریں جوان رہیں اور میرا دل حسین رہے۔
6
या-रब किसी के राज़-ए-मोहब्बत की ख़ैर हो
दस्त-ए-जुनूँ रहे न रहे आस्तीं रहे
یارب کسی کے راز محبت کی خیر ہو
دست جنوں رہے نہ رہے آستیں رہے
اے خدا، کسی کی محبت کا راز محفوظ رہے؛ جنون کا ہاتھ سلامت رہے یا نہ رہے، مگر آستین باقی رہے تاکہ راز فاش نہ ہو۔
7
ता-चंद जोश-ए-इश्क़ में दिल की हिफ़ाज़तें
मेरी बला से अब वो जुनूनी कहीं रहे
تا چند جوش عشق میں دل کی حفاظتیں
میری بلا سے اب وہ جنونی کہیں رہے
عشق کے جوش میں آخر کب تک دل کی حفاظت کی جائے، اب مجھے کوئی پروا نہیں کہ وہ دیوانہ دل جہاں چاہے رہے۔
8
जा और कोई ज़ब्त की दुनिया तलाश कर
ऐ इश्क़ हम तो अब तिरे क़ाबिल नहीं रहे
جا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کر
اے عشق ہم تو اب ترے قابل نہیں رہے
اے عشق، تو جا کر صبر اور برداشت کی کوئی اور دنیا تلاش کر، کیونکہ اب ہم تیرے قابل نہیں رہے۔
9
मुझ को नहीं क़ुबूल दो-आलम की वुसअतें
क़िस्मत में कू-ए-यार की दो-गज़ ज़मीं रहे
مجھ کو نہیں قبول دو عالم کی وسعتیں
قسمت میں کوئے یار کی دو گز زمیں رہے
مجھے دونوں جہانوں کی وسعتیں قبول نہیں ہیں، بس میری قسمت میں محبوب کی گلی کی دو گز زمین نصیب ہو جائے۔
10
ऐ इश्क़-ए-नाला-कश तिरी ग़ैरत को क्या हुआ
है है अरक़ अरक़ वो तन-ए-नाज़नीं रहे
اے عشق نالہ کش تری غیرت کو کیا ہوا
ہے ہے عرق عرق وہ تن نازنیں رہے
اے نالہ و فریاد کرنے والے عشق، تیری غیرت کو کیا ہوا؟ افسوس کہ تیرے سبب محبوب کا وہ نازک بدن پسینے سے شرابور ہو رہا ہے۔
11
दर्द-ओ-ग़म-ए-फ़िराक के ये सख़्त मरहले
हैराँ हूँ मैं कि फिर भी तुम इतने हसीं रहे
درد و غم فراق کے یہ سخت مرحلے
حیراں ہوں میں کہ پھر بھی تم اتنے حسیں رہے
جدائی کے درد اور غم کے ان سخت مراحل کے باوجود، میں حیران ہوں کہ تم اب بھی اتنے خوبصورت ہو۔
12
अल्लाह-रे चश्म-ए-यार की मोजिज़-बयानियाँ
हर इक को है गुमाँ कि मुख़ातिब हमीं रहे
اللہ رے چشم یار کی معجز بیانیاں
ہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے
محبوب کی آنکھوں کی کیا معجزانہ گفتگو ہے کہ محفل میں ہر شخص کو یہی گمان ہوتا ہے کہ اسی سے بات کی جا رہی ہے۔
13
ज़ालिम उठा तू पर्दा-ए-वहम-ओ-गुमान-ओ-फ़िक्र
क्या सामने वो मरहला-हाए-यक़ीं रहे
ظالم اٹھا تو پردۂ وہم و گمان و فکر
کیا سامنے وہ مرحلہ ہائے یقیں رہے
اے ظالم، تو وہم، گمان اور سوچ کا پردہ اٹھا کر تو دیکھ، کیا پھر بھی سامنے یقین کے وہ مراحل باقی رہتے ہیں۔
14
ज़ात-ओ-सिफ़ात-ए-हुस्न का आलम नज़र में है
महदूद-ए-सज्दा क्या मिरा ज़ौक़-ए-जबीं रहे
ذات و صفات حسن کا عالم نظر میں ہے
محدود سجدہ کیا مرا ذوق جبیں رہے
حسن کی ذات اور صفات کا سارا جہاں میری نظروں میں ہے، پھر میری پیشانی کے جھکنے کا شوق صرف سجدے تک ہی کیوں محدود رہے؟
15
किस दर्द से किसी ने कहा आज बज़्म में
अच्छा ये है वो नंग-ए-मोहब्बत यहीं रहे
کس درد سے کسی نے کہا آج بزم میں
اچھا یہ ہے وہ ننگ محبت یہیں رہے
آج محفل میں کسی نے بڑے درد سے کہا کہ اچھا یہی ہے کہ محبت کو بدنام کرنے والا وہ شخص یہیں رہے۔
16
सर-दादगान-ए-इश्क़-ओ-मोहब्बत की क्या कमी
क़ातिल की तेग़ तेज़ ख़ुदा की ज़मीं रहे
سر دادگان عشق و محبت کی کیا کمی
قاتل کی تیغ تیز خدا کی زمیں رہے
عشق و محبت میں سر قربان کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے؛ بس قاتل کی تلوار تیز رہے اور خدا کی زمین وسیع رہے۔
17
इस इश्क़ की तलाफ़ी-ए-माफ़ात देखना
रोने की हसरतें हैं जब आँसू नहीं रहे
اس عشق کی تلافئ مافات دیکھنا
رونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے
اس عشق کا گزرے ہوئے نقصان کی تلافی کرنا دیکھیے کہ اب دل میں رونے کی تمنا تو ہے لیکن بہانے کے لیے آنسو ہی ختم ہو چکے ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
