“When the world itself abides not in a constant state, / What trust, then, can the eye of certainty await?”
جب یہ دنیا ہی ایک حالت پر قائم نہیں رہتی، تو پھر یقین کی نظر پر بھلا کیا اعتبار رہ سکتا ہے۔
اس خوبصورت شعر میں شاعر کائنات کے تغیر اور بے ثباتی کا ذکر کر رہا ہے۔ جب یہ دنیا خود کسی ایک حالت پر قائم نہیں رہتی اور لمحہ بہ لمحہ رنگ بدلتی ہے، تو انسان اپنی نظر کے یقین پر بھلا کیا بھروسا کرے؟ لفظ ’کیا خاک‘ میں ایک دھیمی سی بے بسی چھپی ہے، جو سمجھاتی ہے کہ اس تغیر پذیر جہاں میں کسی بھی شے پر پختہ یقین باندھ لینا محض ایک فریبِ نظر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
