“A complaint against the creator of pain lingers upon my tongue; it seems my senses are no longer sound.”
میری زبان پر درد پیدا کرنے والے کا شکوہ رہتا ہے، شاید اب میرے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہے ہیں۔
عشق کی روایت میں محبوب کی طرف سے ملنے والے درد پر شکوہ کرنا آدابِ محبت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہاں عاشق کی زبان پر خود درد دینے والے کا ہی گلہ آ گیا ہے، جس پر وہ خود حیران اور شرمسار ہے۔ وہ اس بے ساختہ شکوے کا جواز یہ دیتا ہے کہ شاید غم کی شدت نے اس کے ہوش و حواس چھین لیے ہیں، ورنہ ہوش میں رہتے ہوئے کوئی محبوب سے شکایت کی جرات کبھی نہیں کرتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
