“O cruel one, lift this veil of doubt, conjecture, and thought; let us see if the realms of certainty can still remain before our eyes.”
اے ظالم، تو وہم، گمان اور سوچ کا پردہ اٹھا کر تو دیکھ، کیا پھر بھی سامنے یقین کے وہ مراحل باقی رہتے ہیں۔
یہاں شاعر اپنے محبوب یا خود زندگی سے ایک گہرے اور شوخ شکوے کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ وسوسوں، قیاس آرائیوں اور اندیشوں کا یہ پردہ ہٹا کر تو دیکھیے۔ انسان اکثر اصل سچ کا سامنا کرنے سے بچنے کے لیے گمان کے فریب میں جیتا ہے۔ شاعر یہ جاننے کے لیے بے چین ہے کہ جب یہ سارے وہم چھٹ جائیں گے، تو کیا ہمارے دلوں کا یقین اور حقیقت کے مرحلے واقعی قائم رہ پائیں گے؟
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
