“Of those who offer up their heads to love, there is no dearth; May the slayer's blade stay sharp, and vast remain God's earth.”
عشق و محبت میں سر قربان کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے؛ بس قاتل کی تلوار تیز رہے اور خدا کی زمین وسیع رہے۔
اس شعر میں عشق کی راہ میں خود کو بے دریغ نچھاور کر دینے کا والہانہ اور بے باک جذبہ جھلکتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ سچی محبت میں جان لٹانے والے دیوانوں کا کبھی کوئی قحط نہیں رہا، اس لیے محبوب کو جھجھکنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ عاشق اپنے قتل پر شکوہ کرنے کے بجائے الٹا قاتل کی تلوار کے تیز رہنے اور زمین کی وسعت کی دعا کرتا ہے تاکہ عشق و قربانی کا یہ دلفریب سلسلہ کبھی نہ تھمے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
