“With such enchanting grace did they sit beside me today; so long as they remained near, I ceased to be myself.”
آج وہ کچھ ایسے دلکش انداز میں میرے پاس بیٹھے کہ جب تک وہ میرے قریب رہے، میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور اپنے آپ میں نہ رہا۔
جگر مراد آبادی اس شعر میں محبوب کے قرب کے اس سحر انگیز اثر کو بیان کر رہے ہیں جہاں انسان اپنی خودی ہی بھول جاتا ہے۔ جب محبوب اتنی دلکش ادا سے پہلو میں آ بیٹھا، تو شاعر پر ایسی بے خودی طاری ہوئی کہ اس کا اپنا وجود اور ہوش و حواس بالکل مٹ گئے۔ عشق کی اصل معراج یہی ہے کہ محبوب کے جلوے کے سامنے انسان کا اپنا 'میں' مکمل طور پر فنا ہو جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
