“The entire realm of Beauty's essence and attributes fills my view; / Why should the longing of my brow be bound by a mere prostration?”
حسن کی ذات اور صفات کا سارا جہاں میری نظروں میں ہے، پھر میری پیشانی کے جھکنے کا شوق صرف سجدے تک ہی کیوں محدود رہے؟
شاعر کا کہنا ہے کہ جب محبوبِ حقیقی کے حسن کی ذات اور صفات کا سارا جہان ہر سو جلوہ گر ہے، تو پھر بندگی کو محض ایک رسمی سجدے تک کیوں محدود رکھا جائے۔ ان کی پیشانی کی تڑپ اور سجدہ ریزی کا شوق کسی خاص وقت یا جگہ کا محتاج نہیں، کیونکہ وہ ہر شے میں اسی کا جلوہ دیکھ رہے ہیں۔ یہ شعر ظاہر کرتا ہے کہ سچی عقیدت اور محبت محض ظاہری ارکان کا نام نہیں، بلکہ حسنِ مطلق کے سامنے روح کی مسلسل اور لامحدود خودسپردگی کی ایک کیفیت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
