اے عشق نالہ کش تری غیرت کو کیا ہوا ہے ہے عرق عرق وہ تن نازنیں رہے

“O wailing love, what has become of all your pride and shame? / Alas, in sweat is drenched and bathed that frail and tender frame!”

— جگر مرادآبادی
معنی

اے نالہ و فریاد کرنے والے عشق، تیری غیرت کو کیا ہوا؟ افسوس کہ تیرے سبب محبوب کا وہ نازک بدن پسینے سے شرابور ہو رہا ہے۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنے ہی بے قابو عشق اور فریاد و زاری پر شرمسار ہو کر خود کو ملامت کر رہا ہے۔ اسے رنج ہے کہ اس کی پُرشور محبت نے محبوب کے نازک وجود کو تھکا دیا اور وہ پسینے سے شرابور ہو گیا۔ یہ عشق کی وہ لطیف اور پُردرد کیفیت ہے جہاں اپنی ہی بے قراری سے معشوق کو ملنے والی ذرا سی زحمت بھی عاشق کی غیرت پر گراں گزرتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.