“O Lord, preserve the secret of someone's love; whether the hand of frenzy survives or not, may the sleeve remain intact.”
اے خدا، کسی کی محبت کا راز محفوظ رہے؛ جنون کا ہاتھ سلامت رہے یا نہ رہے، مگر آستین باقی رہے تاکہ راز فاش نہ ہو۔
اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کے راز اور محبت کے تقدس کی حفاظت کے لیے دست بدعا ہے۔ روایتی شاعری میں 'دستِ جنوں' یا دیوانگی کا ہاتھ اپنے ہی کپڑے پھاڑ کر عشق کو رسوا کر دیتا ہے، مگر یہاں عاشق کی نیت سراسر ایثار کی ہے۔ وہ التجا کرتا ہے کہ اس پاگل پن میں چاہے اس کا ہاتھ اور وجود فنا ہو جائے، مگر پردہ دار 'آستین' سلامت رہے تاکہ اس کی محبت کا بھرم قائم رہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
