“I care not for the vast expanse of both the realms; let my fate hold but two yards of earth in my beloved's lane.”
مجھے دونوں جہانوں کی وسعتیں قبول نہیں ہیں، بس میری قسمت میں محبوب کی گلی کی دو گز زمین نصیب ہو جائے۔
اس شعر میں عاشق اپنی بے پایاں محبت اور خود سپردگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اسے دونوں جہانوں کی لامحدود وسعتیں اور نعمتیں بھی قبول نہیں۔ محبوب کے در کی خاک اس کے لیے ساری کائنات کے جاہ و جلال سے بڑھ کر ہے۔ اس کی کل کائنات اور آخری آرزو بس یہی ہے کہ موت کے بعد محبوب کی گلی میں دو گز زمیں نصیب ہو جائے، کیونکہ محبوب کا قرب ہی اس کی اصل جنت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
