“Neither faith nor disbelief, nor worldly life nor creed remains; Hail to you, O joyous Love, for now we alone remain!”
اب نہ ایمان و کفر باقی رہا اور نہ دنیا و دین رہے؛ اے عشق، تو خوش رہ کہ اب میدان میں صرف ہم ہی باقی بچے ہیں۔
اس شعر میں عشق کو ایک ایسے بے پایاں جذبے کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ایمان و کفر اور دنیا و دین کی تمام روایتی حدیں مٹا دیتا ہے۔ محبت کے اس سفر میں تمام ظاہری امتیازات ختم ہو جاتے ہیں اور انسان دنیا کے ہر جھنجھٹ سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ شاعر عشق کو مبارکباد پیش کرتا ہے کہ اس نے سب کچھ بھلا کر بالآخر عاشق کو اس کے اپنے خالص اور بے ساختہ وجود کے ساتھ تنہا کر دیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
