جب تک الٰہی جسم میں جان حزیں رہے نظریں مری جوان رہیں دل حسیں رہے

“As long as, O God, this sorrowful soul abides within my frame, / May my gaze remain youthful, and my heart keep beauty's flame.”

— جگر مرادآبادی
معنی

اے خدا! جب تک میرے جسم میں یہ غمگین جان رہے، میری نظریں جوان رہیں اور میرا دل حسین رہے۔

تشریح

شاعر اس شعر میں بارگاہِ الٰہی میں ایک پُرخلوص دعا مانگ رہا ہے کہ دکھوں سے بوجھل اس جان کے رہتے ہوئے بھی زندگی کا اصل ذوق کبھی ماند نہ پڑے۔ وہ جسم کی طوالتِ عمر کے بجائے روح کی تازگی کی التجا کرتا ہے، تاکہ آنکھیں حسن کو سراہنے کی صلاحیت نہ کھوئیں اور دل تلخیوں کا شکار ہو کر بےحس نہ بنے۔ یہ شعر دراصل اس بات کا خوبصورت درس ہے کہ حقیقی جوانی دل کو زندہ رکھنے اور حسن و محبت کا شیدائی بنے رہنے کا نام ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.