“How long in love's wild frenzy must I guard this fragile heart? / For all I care, let that mad wanderer live wherever he will.”
عشق کے جوش میں آخر کب تک دل کی حفاظت کی جائے، اب مجھے کوئی پروا نہیں کہ وہ دیوانہ دل جہاں چاہے رہے۔
اس شعر میں عاشق عشق کے جنون اور اپنے ہی بے قابو دل کی نادانیوں سے تنگ آ چکا ہے۔ وہ اب تک بڑی مشقت سے اس نازک دل کو سنبھالنے اور بچانے کی کوشش میں تھا، مگر اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ دل کو ایک آوارہ 'جنونی' قرار دے کر وہ بیزاری اور شوخی سے کہتا ہے کہ اب مجھ سے اس کی چوکیداری نہیں ہوتی، میری بلا سے یہ دیوانہ جہاں مرضی مارا مارا پھرے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
