غزل
ज़माना आया है बे-हिजाबी का आम दीदार-ए-यार होगा
ज़माना आया है बे-हिजाबी का आम दीदार-ए-यार होगा
یہ غزل ایک ایسے دور کا بیان کرتی ہے جہاں پہلے سے مختلف ماحول آ گیا ہے۔ وہ وقت گزر چکا جب محبت اور جذبات پردے میں رکھے جاتے تھے؛ اب سب کچھ کھلے عام اور کھل کر ظاہر ہونے والا ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ ہر چیز، ہر رشتے کا سُورط بدل گیا ہے، اور اب ہر کوئی ہر چیز کا تجربہ کرنے والا ہوگا۔
نغمہ سنیں
1
ज़माना आया है बे-हिजाबी का आम दीदार-ए-यार होगा
सुकूत था पर्दा-दार जिस का वो राज़ अब आश्कार होगा
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگا
سکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگا
زمانہ ایسا آ گیا ہے کہ محبوب کا دیدار کھلے عام ہو گا، اور وہ راز جو پردے میں چھپا تھا وہ اب ظاہر ہو گا۔
2
गुज़र गया अब वो दौर साक़ी कि छुप के पीते थे पीने वाले
बनेगा सारा जहान मय-ख़ाना हर कोई बादा-ख़्वार होगा
گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہان مے خانہ ہر کوئی بادہ خوار ہوگا
وہ دور گزر گیا جب پینے والے ساغر سے چھپ کر پیتے تھے؛ اب سارا جہاں مے خانہ بنے گا اور ہر کوئی شراب خوار ہوگا۔
3
कभी जो आवारा-ए-जुनूँ थे वो बस्तियों में फिर आ बसेंगे
बरहना-पाई वही रहेगी मगर नया ख़ार-ज़ार होगा
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
جو کبھی آوارۂ جنون تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے، برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خَار بازار ہوگا۔
4
सुना दिया गोश-ए-मुंतज़िर को हिजाज़ की ख़ामुशी ने आख़िर
जो अहद सहराइयों से बाँधा गया था फिर उस्तुवार होगा
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
ہجاز کی خاموشی نے آخر منتظر کے کان میں یہ بات کہہ دی کہ جو عہد صحرائیوں سے بندھا تھا، وہ اب مستور ہوگا۔
5
निकल के सहरा से जिस ने रूमा की सल्तनत को उलट दिया था
सुना है ये क़ुदसियों से मैं ने वो शेर फिर होशियार होगा
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
نکل کے صحرا سے جس نے روم کی سلطنت کو الٹ دیا تھا، سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا।
6
किया मिरा तज़्किरा जो साक़ी ने बादा-ख़्वारों की अंजुमन में
तो पीर-ए-मय-ख़ाना सुन के कहने लगा कि मुँह फट है ख़ार होगा
کیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میں
تو پیر مے خانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے خار ہوگا
اگر ساقي نے بادہ خواروں کی انجمن میں میرا ذکر کیا، تو پیرِ مے خانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے خار ہوگا।
7
दयार-ए-मग़रिब के रहने वालो ख़ुदा की बस्ती दुकाँ नहीं है
खरा जिसे तुम समझ रहे हो वो अब ज़र-ए-कम-अयार होगा
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
اے رہائشی مغرب کے، خدا کا گھر کوئی بازار نہیں؛ جو تم سچ سمجھ رہے ہو، وہ اب بے قیمت ہو جائے گا۔
8
तुम्हारी तहज़ीब अपने ख़ंजर से आप ही ख़ुद-कुशी करेगी
जो शाख़-ए-नाज़ुक पे आशियाना बनेगा ना-पाएदार होगा
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
تہذیب تمہاری اپنے خنجر سے خودکشی کرے گی، اور جو شاخِ نازک پر آشیانہ بنے گا، وہ ناپائیدار ہوگا۔
9
सफ़ीना-ए-बर्ग-ए-गुल बना लेगा क़ाफ़िला मोर-ए-ना-तावाँ का
हज़ार मौजों की हो कशाकश मगर ये दरिया से पार होगा
سفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہوگا
ایک قافلہ گل کی پنکھڑی سے ایک کشتی بنا لے گا، جو مور کی نفاست کے قافلے جیسا ہوگا؛ اگرچہ یہ ہزار لہروں کا تالاب ہے، پھر بھی یہ اس دریا کو پار کر جائے گا۔
10
चमन में लाला दिखाता फिरता है दाग़ अपना कली कली को
ये जानता है कि इस दिखावे से दिल-जलों में शुमार होगा
چمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو
یہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہوگا
باغ میں، گلاب اپنی داغ ہر کلی پر دکھاتا پھرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے وہ دل والوں میں گنا جائے گا۔
11
जो एक था ऐ निगाह तू ने हज़ार कर के हमें दिखाया
यही अगर कैफ़ियत है तेरी तो फिर किसे ए'तिबार होगा
جو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایا
یہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہوگا
جو ایک تھی اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھائی۔ یہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہوگا۔
12
कहा जो क़मरी से मैं ने इक दिन यहाँ के आज़ाद पा-ब-गिल हैं
तो ग़ुंचे कहने लगे हमारे चमन का ये राज़दार होगा
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
جب میں نے قمری ندی سے یہاں کے آزاد، شبنم سے سجے میدانوں کا ذکر کیا، تو پھولوں نے کہا کہ ہمارے باغ کے اس رازدار کا ہونا ہو گا۔
13
ख़ुदा के आशिक़ तो हैं हज़ारों बनों में फिरते हैं मारे मारे
मैं उस का बंदा बनूँगा जिस को ख़ुदा के बंदों से प्यार होगा
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
ख़ुदा کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے۔ میں اُس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا۔
14
ये रस्म-ए-बरहम फ़ना है ऐ दिल गुनाह है जुम्बिश-ए-नज़र भी
रहेगी क्या आबरू हमारी जो तू यहाँ बे-क़रार होगा
یہ رسم برہم فنا ہے اے دل گناہ ہے جنبش نظر بھی
رہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہوگا
یہ رسمِ برہم فنا ہے اے دل، گناہ ہے جنبشِ نظر بھی۔ رہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہو گا۔
15
मैं ज़ुल्मत-ए-शब में ले के निकलूँगा अपने दरमाँदा कारवाँ को
शह निशाँ होगी आह मेरी नफ़स मिरा शो'ला बार होगा
میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شہہ نشاں ہوگی آہ میری نفس مرا شعلہ بار ہوگا
میں ظلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درمندہ کارواں کو؛ آہ میرا نشان ہوگی اور میری نفس میرا شعلہ ہوگا۔
16
नहीं है ग़ैर-अज़ नुमूद कुछ भी जो मुद्दआ तेरी ज़िंदगी का
तू इक नफ़स में जहाँ से मिटना तुझे मिसाल-ए-शरार होगा
نہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کا
تو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہوگا
تیری زندگی کے دعوے میں کچھ بھی غیر از نمود نہیں ہے، تو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثالِ شرار ہوگا۔
17
न पूछ 'इक़बाल' का ठिकाना अभी वही कैफ़ियत है उस की
कहीं सर-ए-रहगुज़ार बैठा सितम-कश-ए-इंतिज़ार होगा
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا
نہیں پوچھ اقبال کا ٹھکانہ؛ ابھی بھی اس کی حالت وہی ہے کہ کہیں راہِ روزگار پر انتظار کا ستمکار بیٹھا ہوگا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
