“When I spoke of the liberated, dew-kissed meadow here, from the moonlit stream, the ones started saying that this secret guardian of our garden would be.”
جب میں نے قمری ندی سے یہاں کے آزاد، شبنم سے سجے میدانوں کا ذکر کیا، تو پھولوں نے کہا کہ ہمارے باغ کے اس رازدار کا ہونا ہو گا۔
یہ شعر راز اور نایاب حسن کے بارے میں بات کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر میں اپنی وہ آزادی کی یاد بتا دوں، تو یہ کلیوں کا کہنا ہوگا کہ یہ راز ہمارے چمن کے نگہبان کا ہے۔ یعنی، جو چیز سب سے قیمتی ہوتی ہے، وہ ظاہر نہیں کی جا سکتی، اسے دل میں ہی رکھنا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
