گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے بنے گا سارا جہان مے خانہ ہر کوئی بادہ خوار ہوگا

“The era when the drinkers secretly drank from the cupbearer has passed; now, the whole world will become a tavern, and everyone will be a drinker.”

— علامہ اقبال
معنی

وہ دور گزر گیا جب پینے والے ساغر سے چھپ کر پیتے تھے؛ اب سارا جہاں مے خانہ بنے گا اور ہر کوئی شراب خوار ہوگا۔

تشریح

یہ شعر وقت کے گزر جانے اور انسانی تجربے کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ وہ دور گزر گیا جب مست لوگ چوری چھپے شراب پیتے تھے۔ اب تو پوری دنیا ہی مے خانہ بن جائے گی، اور ہر کوئی خود ایک شراب کا شوقین ہوگا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.