غزل
مری آنکھوں کے آگے اُبجلا کیا جوش میں دریا
مری آنکھوں کے آگے اُبجلا کیا جوش میں دریا
Source: Kulliyat-e-Aatish (Matba Munshi Naval Kishore, Lucknow) · HI
نغمہ سنیں
1
मेरी आँखों के आगे उबजला क्या जोश में दरिया
हमेशा सूरत-ए-साहिल हो बान आग़ोश में दरिया
مری آنکھوں کے آگے اُبجلا کیا جوش میں دریا
ہمیشہ صورت ساحل ہو بان آغوش میں دریا
مری آنکھوں کے سامنے دریا جوش میں اُمنڈ پڑا، پھر بھی وہ ہمیشہ ساحل کی طرح اپنے ہی آغوش میں سمٹا رہا۔
2
वो हद कम-ज़रफ़ हैं जो एक साग़र में बहकते हैं
नहीं क़तरा भी याँ हंगाम-ए-नोशा-नोश में दरिया
وہ حد کم ظرف ہیں جو ایک ساغر میں بہکتے ہیں
نہیں قطرہ بھی یاں ہنگام نوشا نوش میں دریا
وہ نہایت کم ظرف ہیں جو ایک ہی ساغر میں بہک جاتے ہیں؛ یہاں تو مسلسل پینے کے وقت ایک قطرہ بھی مجھے دریا کی طرح نہیں بہاتا۔
3
निकाला चाहे ऐ ग़व्वाज़ तो जल्द अब निकाल इस को
ख़ुदा जाने कि क्या फूँके सदफ़ के गोश में दरिया
نکالا چاہے اے غواض تو جلد اب نکال اس کو
خدا جانے کہ کیا پھونکے صدف کے گوش میں دریا
اے غوطہ خور، اگر تو اس موتی کو نکالنا چاہتا ہے تو اب جلد نکال لے، کیونکہ خدا جانے دریا سیپ کے کان میں کیا پھونک دے۔
4
ख़मोशी और गोयाई मेरी इक इक से बेहतर है
सुकूनत में ये क़तरा हो गुहर तो जोश में दरिया
خموشی اور گویائی مری اک اک سے بہتر ہے
سکونت میں یہ قطرہ ہو گہر تو جوش میں دریا
میری خاموشی اور میرا بولنا دونوں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں؛ سکون میں یہ قطرہ موتی بن جاتا ہے اور جوش میں دریا۔
5
सरक जाए जो रू-ए-चश्म-ए-तर से गोशा दामन का
न देखा हो किसी ने ऐसा अपने होश में दरिया
سرک جائے جو روئے چشم تر سے گوشہ دامن کا
نہ دیکھا ہو کسی نے ایسا اپنے ہوش میں دریا
اگر آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں کی سطح سے دامن کا کونہ سرک جائے، تو ہوش میں رہتے ہوئے کسی نے ایسا طغیانی میں آیا دریا نہ دیکھا ہوگا۔
6
किया जो ज़ब्त-ए-गिर्या तो कहा दरिया को कूज़े में
कभी दिल खोल कर रोया तो आया जोश में दरिया
کیا جو ضبط گریہ تو کہا دریا کو کوزے میں
کبھی دل کھول کر رویا تو آیا جوش میں دریا
جب میں نے اپنے آنسوؤں کو روکا تو گویا دریا کو ایک چھوٹے سے کوزے میں سمو دیا؛ مگر جب کبھی دل کھول کر رویا تو وہی دریا جوش میں آ کر امنڈ پڑا۔
7
अगर मोती न बनते क़तरा-हा-ए-अब्र-ए-नैसाँ से
तो हलक़ा डालता आतिश सदफ़ के गोश में दरिया
اگر موتی نہ بنتے قطرہ ہائے ابر نیساں سے
تو حلقہ ڈالتا آتش صدف کے گوش میں دریا
اگر نیساں کے بادل کی بوندیں موتی نہ بنتیں، تو دریا آگ کا حلقہ صدف کے کان میں ڈال دیتا۔
8
दिल छुट के जान से गोर की मंज़िल में रह गया
कैसा रफ़ीक़ साथ से मुश्किल में रह गया
دل چھٹ کے جان سے گور کی منزل میں رہ گیا
کیسا رفیق ساتھ سے مشکل میں رہ گیا
دل جان سے جدا ہو کر قبر کی منزل میں رہ گیا؛ یہ کیسا ساتھی تھا جو مشکل کے وقت ساتھ چھوڑ کر پیچھے رہ گیا۔
9
आए भी लोग बैठे भी उठे भी खड़े हुए
मैं जाही ढूँढता तेरी महफ़िल में रह गया
آئے بھی لوگ بیٹھے بھی اُٹھے بھی کھڑے ہوئے
مین جاہی ڈھونڈھتا تری محفل مین رہ گیا
لوگ آئے، بیٹھے، پھر اُٹھے اور کھڑے ہو کر چلے گئے؛ میں تجھی کو ڈھونڈتا ہوا تیری محفل میں ہی رہ گیا۔
10
नाक़िस हो दोस्तदारी में कामिल नहीं हो तू
दुश्मन से भी ग़ुबार अगर दिल में रह गया
ناقص ہو دوستداری مین کامل نہین ہو تو
دشمن سے بھی غبار اگر دل مین رہ گیا
تم دوستی میں ادھورے ہو، ابھی کامل نہیں ہوئے، اگر دشمن کے لیے بھی تمہارے دل میں تھوڑی سی کدورت باقی رہ گئی۔
11
क़ातिल सँभल के तेग़ लगा जाए शर्म है
तस्मा लगा जो गर्दन-ए-बिस्मिल में रह गया
قاتل سنبھل کے تیغ لگا جائے شرم ہے
تسمہ لگا جو گردن بسمل مین رہ گیا
اے قاتل، سنبھل کر تلوار چلا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تجھے شرمندگی اٹھانی پڑے، کیونکہ اگر تلوار کا تسمہ مقتول کی گردن میں ہی رہ گیا تو یہ شرم کی بات ہوگی۔
12
आज़ादी से ज़ियादा असीरी में लुत्फ़ हो
दिल मुर्ग़-ए-रूह का क़फ़स-ए-गुल में रह गया
آزادی سے زیادہ اسیری مین لطف ہو
دل مرغ روح کا قفس گل مین رہ گیا
کبھی آزادی سے زیادہ قید میں لطف ہوتا ہے—روح کا پرندہ یعنی دل پھول کے پنجرے ہی میں رہ گیا۔
13
सबक़त जो ज़िंदगी में सिकंदर से की तो क्या
ऐ ख़िज़्र पीछे मर्ग की मंज़िल में रह गया
سبقت جو زندگی مین سکندر سے کی تو کیا
اے خضر پیچھے مرگ کی منزل مین رہ گیا
زندگی میں اگر تُو سکندر سے بھی آگے نکل گیا تو اس سے کیا ہوا؟ اے خضر، موت کی منزل میں تُو پیچھے ہی رہ گیا۔
14
मजनूँ बरहना करता उसे अपनी तरह से
लैला का पर्दा पर्दा-ए-महमिल में रह गया
مجنون برہنہ کرتا اُسے اپنی طرح سے
لیلےٰ کا پردہ پردۂ محمل مین رہ گیا
مجنوں اُسے اپنے انداز میں برہنہ (آشکار) کر دیتا، مگر لیلیٰ کا پردہ محمل کے پردے میں ہی چھپا رہ گیا۔
15
पारा तेरा हो कि ग़र्क़ हो अबहर-ए-इश्क़ में
वो दाग़ है जो दामन-ए-साहिल में रह गया
پارا ترا ہو کہ غرق ہو ابحر عشق مین
وہ داغ ہے جو دامن ساحل مین رہ گیا
تیرا جزو خواہ عشق کے سمندر میں ڈوب جائے، وہ تو بس وہ داغ ہے جو ساحل کے دامن میں رہ گیا۔
16
काफ़िर है मुनकिर उसकी करीमी की शान का
ख़ाली प्याला कब कफ़-ए-साइल में रह गया
کافر ہے منکر اسکی کریمی کی شان کا
خالی پیالہ کب کف سائل مین رہ گیا
جو اس کی کرم نوازی کی عظمت کا منکر ہے وہ کافر ہے؛ بھلا سائل کے ہاتھ میں خالی پیالہ کب رہا؟
17
आतिश को दस्त-ओ-तेग़ से मुमकिन हुआ न ज़ख़्म
बेचारा मरके हसरत-ए-क़ातिल में रह गया
آتش کو دست و تیغ سے ممکن ہوانہ زخم
بیچارہ مرکے حسرت قاتل مین رہ گیا
آگ کو ہاتھ اور تلوار سے زخم پہنچانا ممکن نہ ہو سکا؛ بیچاری آگ مر گئی مگر اپنے قاتل کی تلوار سے زخمی ہونے کی حسرت ہی میں رہ گئی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
