کیا جو ضبط گریہ تو کہا دریا کو کوزے میں — خواجہ حیدر علی آتش

کیا جو ضبط گریہ تو کہا دریا کو کوزے میں کبھی دل کھول کر رویا تو آیا جوش میں دریا

“When I held back my tears, I poured the ocean into a cup; but when I wept with open heart, the sea rose up in surging flood.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

جب میں نے اپنے آنسوؤں کو روکا تو گویا دریا کو ایک چھوٹے سے کوزے میں سمو دیا؛ مگر جب کبھی دل کھول کر رویا تو وہی دریا جوش میں آ کر امنڈ پڑا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے آنسوؤں اور دریا کا خوبصورت رشتہ جوڑا ہے۔ جب اس نے اپنے گریہ کو ضبط کیا، روک لیا، تو گویا پورے دریا کو ایک ننھے سے کوزے میں سمیٹ لیا — بے پناہ غم کو سینے میں چھپا لیا۔ مگر جب کبھی دل کھول کر رویا تو وہی دریا اپنے پورے جوش اور طغیانی پر آ گیا۔ یعنی دبایا ہوا غم کم نہیں ہوتا، اور جب بہتا ہے تو اس کی کوئی حد نہیں رہتی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.