دل چھٹ کے جان سے گور کی منزل میں رہ گیا — خواجہ حیدر علی آتش
“The heart, torn from life, stayed lodged within the dwelling of the grave— what a companion this was, who abandoned me in hardship, left behind!”
معنی
دل جان سے جدا ہو کر قبر کی منزل میں رہ گیا؛ یہ کیسا ساتھی تھا جو مشکل کے وقت ساتھ چھوڑ کر پیچھے رہ گیا۔
تشریح
اس شعر میں دل کو ایک بے وفا ساتھی کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔ جب جان جسم سے رخصت ہوئی تو دل قبر کی منزل میں ہی پڑا رہ گیا — یعنی جس پر سب سے زیادہ بھروسہ تھا، وہی سب سے بڑی مشکل کے وقت ساتھ چھوڑ گیا۔ شاعر میٹھے طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ کیسا رفیق نکلا یہ دل، جو آخری گھڑی میں ہی بے وفائی کر گیا۔ یہ زندگی، موت اور دل کے رشتے پر ایک گہری اور درد بھری بات ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
