اگر موتی نہ بنتے قطرہ ہائے ابر نیساں سے — خواجہ حیدر علی آتش

اگر موتی نہ بنتے قطرہ ہائے ابر نیساں سے تو حلقہ ڈالتا آتش صدف کے گوش میں دریا

“Had the drops of the April cloud not turned to pearls, the sea would have hung a ring of fire in the oyster's ear.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

اگر نیساں کے بادل کی بوندیں موتی نہ بنتیں، تو دریا آگ کا حلقہ صدف کے کان میں ڈال دیتا۔

تشریح

یہاں اس پرانے عقیدے کا سہارا لیا گیا ہے کہ نیساں (بہار) کے بادل کا قطرہ جب صدف کے منہ میں گرتا ہے تو موتی بن جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر یہ قطرے موتی نہ بنتے تو دریا سیپی کے کان میں آگ کا حلقہ ڈال دیتا، یعنی اسے سزا دیتا۔ اس حسین تصویر کے پیچھے قدرت کے نازک حساب اور قدر کی بات ہے، جہاں ایک معمولی قطرے کو بھی انمول موتی بن کر اپنی قیمت ثابت کرنی پڑتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.