مجنون برہنہ کرتا اُسے اپنی طرح سے — خواجہ حیدر علی آتش
“Majnun would have stripped her bare, remade in his own guise, but Laila's veil stayed veiled within the litter's secret guise”
معنی
مجنوں اُسے اپنے انداز میں برہنہ (آشکار) کر دیتا، مگر لیلیٰ کا پردہ محمل کے پردے میں ہی چھپا رہ گیا۔
تشریح
اس شعر میں مجنوں اور لیلیٰ کی مشہور داستان کے ذریعے عشق کا ایک گہرا راز بیان ہوا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر مجنوں کو موقع ملتا تو وہ لیلیٰ کو اپنی خواہش اور تصور کے مطابق ڈھال لیتا، اپنی طرح بنا لیتا — مگر لیلیٰ کا اصل پردہ، اس کی حقیقی ذات، محمل کے پردے کے پیچھے ہی چھپی رہ گئی۔ گہرے معنوں میں یہ اشارہ ہے کہ عاشق اکثر محبوب کو ویسا ہی دیکھتا ہے جیسا وہ خود چاہتا ہے، اور معشوق کی سچی حقیقت اس کی رسائی سے دور، رمز میں ڈھکی رہتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
