سبقت جو زندگی مین سکندر سے کی تو کیا — خواجہ حیدر علی آتش

سبقت جو زندگی مین سکندر سے کی تو کیا اے خضر پیچھے مرگ کی منزل مین رہ گیا

“What of it, if in life you outpaced even Alexander? O Khizr, in the station of death you were left behind.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

زندگی میں اگر تُو سکندر سے بھی آگے نکل گیا تو اس سے کیا ہوا؟ اے خضر، موت کی منزل میں تُو پیچھے ہی رہ گیا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر دو عظیم ہستیوں کا ذکر کرتا ہے — سکندر، جو دنیا فتح کرنے نکلا تھا، اور خضر، جنہیں آبِ حیات یعنی ہمیشہ کی زندگی ملنے کی روایت مشہور ہے۔ شاعر چھیڑتے ہوئے کہتا ہے کہ اے خضر، زندگی کی دوڑ میں تم نے سکندر کو بھلے پیچھے چھوڑ دیا، مگر موت کی اصل منزل پر تو تم ہی پیچھے رہ گئے، کیونکہ وہاں تم کبھی پہنچے ہی نہیں۔ اس میں ایک لطیف طنز اور گہرا پیغام ہے کہ طویل عمر اور دنیاوی کامیابی بے معنی ہیں، کیونکہ موت وہ سفر ہے جو ہر ایک کو طے کرنا ہے، اور ہمیشگی بھی ایک طرح کی ناکامی ٹھہرتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.