سرک جائے جو روئے چشم تر سے گوشہ دامن کا — خواجہ حیدر علی آتش
“Should the hem of the garment slip past the surface of these tear-drenched eyes, no one, while in their senses, has ever beheld such a river in flood.”
معنی
اگر آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں کی سطح سے دامن کا کونہ سرک جائے، تو ہوش میں رہتے ہوئے کسی نے ایسا طغیانی میں آیا دریا نہ دیکھا ہوگا۔
تشریح
ذرا سوچیے — آنکھیں آنسوؤں سے یوں بھری ہیں کہ جب دامن کا کونہ اُن تر آنکھوں کے پاس سے گزرتا ہے تو گویا کسی اُمنڈتے دریا کو چھو کر بہا جا رہا ہو۔ شاعر رونے کی شدت کو دریا کے استعارے میں ڈھال کر اتنا عظیم بنا دیتا ہے کہ ایسا سیلاب، آنسوؤں کا ایسا دریا کسی نے ہوش و حواس میں کبھی نہ دیکھا ہو گا۔ 'اپنے ہوش میں' کہنے میں ایک لطیف اشارہ بھی ہے کہ ایسا منظر دیکھ کر انسان کے ہوش ہی اُڑ جائیں — غم کی کوئی حد باقی نہیں رہتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
