قاتل سنبھل کے تیغ لگا جائے شرم ہے — خواجہ حیدر علی آتش

قاتل سنبھل کے تیغ لگا جائے شرم ہے تسمہ لگا جو گردن بسمل مین رہ گیا

“O slayer, strike your blade with care, lest shame should come to you— for if the strap be left behind in the slain one's throat, what then?”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

اے قاتل، سنبھل کر تلوار چلا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تجھے شرمندگی اٹھانی پڑے، کیونکہ اگر تلوار کا تسمہ مقتول کی گردن میں ہی رہ گیا تو یہ شرم کی بات ہوگی۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنے قاتل یعنی محبوب سے نہایت محبت سے کہتا ہے کہ سنبھل کر وار کرنا، ورنہ شرمندگی تجھے ہی اٹھانی پڑے گی۔ 'تسمہ' یعنی تلوار کی مٹھ کا چمڑے کا بند اگر مقتول کی گردن میں الجھا رہ گیا تو یہ تیری بے دھیانی اور ناتجربہ کاری کی نشانی بن جائے گا۔ دراصل شاعر یہاں عشق کی اُس نزاکت کو بیان کرتا ہے جہاں مرنے والا اپنی موت میں بھی محبوب کی عزت اور اُس کے ہنر کی فکر کرتا ہے—کیسی انوکھی وفاداری ہے!

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.