آزادی سے زیادہ اسیری مین لطف ہو — خواجہ حیدر علی آتش

آزادی سے زیادہ اسیری مین لطف ہو دل مرغ روح کا قفس گل مین رہ گیا

“More pleasure there may be in bondage than in liberty— the soul's bird, my heart, stayed on within the cage of the rose.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

کبھی آزادی سے زیادہ قید میں لطف ہوتا ہے—روح کا پرندہ یعنی دل پھول کے پنجرے ہی میں رہ گیا۔

تشریح

کتنی نازک بات کہی ہے — کبھی کبھی اسیری میں وہ لذت ملتی ہے جو آزادی بھی نہیں دیتی۔ یہاں دل کو روح کا پرندہ کہا گیا ہے، جو آزاد ہو کر اڑنے کے بجائے گلاب کے پنجرے میں ہی ٹھہر گیا۔ گل کی پتیوں کا یہ حصار ایک نازک قید ہے، مگر اتنی حسین کہ اس سے رہائی کا دل ہی نہیں چاہتا — عشق کی وہ بندش جس میں آزادی سے زیادہ لطف ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.