مری آنکھوں کے آگے اُبجلا کیا جوش میں دریا — خواجہ حیدر علی آتش

مری آنکھوں کے آگے اُبجلا کیا جوش میں دریا ہمیشہ صورت ساحل ہو بان آغوش میں دریا

“Before my very eyes the river surged and churned in frenzied might, Yet like the shore it stayed forever clasped within its own embrace.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

مری آنکھوں کے سامنے دریا جوش میں اُمنڈ پڑا، پھر بھی وہ ہمیشہ ساحل کی طرح اپنے ہی آغوش میں سمٹا رہا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر ایک دریا کا منظر دکھاتا ہے جو اُس کی آنکھوں کے سامنے جوش اور اُبال میں بپھرا ہوا ہے — لہریں بے چین، پانی زندگی سے لبریز۔ مگر کمال یہ ہے کہ اتنے جوش کے باوجود دریا کبھی اپنی حد سے باہر نہیں بہتا، ہمیشہ اپنے ہی کناروں میں، گویا اپنی ہی آغوش میں سمٹا رہتا ہے۔ اس میں ایک خاموش حکمت پوشیدہ ہے — دل میں کتنا ہی طوفان کیوں نہ ہو، اصل بڑائی اپنی حد اور وقار میں قائم رہنے، اور جذبات کے اُبال میں بھی اپنے ضبط کو نہ کھونے میں ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 17Next →