آتش کو دست و تیغ سے ممکن ہوانہ زخم — خواجہ حیدر علی آتش

آتش کو دست و تیغ سے ممکن ہوانہ زخم بیچارہ مرکے حسرت قاتل مین رہ گیا

“Fire could not be wounded by the dagger-wielding hand; The poor thing died still longing for its slayer's blade.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

آگ کو ہاتھ اور تلوار سے زخم پہنچانا ممکن نہ ہو سکا؛ بیچاری آگ مر گئی مگر اپنے قاتل کی تلوار سے زخمی ہونے کی حسرت ہی میں رہ گئی۔

تشریح

یہاں شاعر آگ کو ایک بے چارے عاشق کی صورت میں دیکھتا ہے، جسے تلوار یا ہاتھ سے زخم پہنچانا ممکن ہی نہیں — تیغ آگ میں سے یوں گزر جاتی ہے کہ کوئی نشان نہیں چھوڑتی۔ آگ کی سب سے بڑی آرزو یہی تھی کہ قاتل یعنی محبوب اپنے ہاتھوں سے اسے زخمی کرے، مگر اس کی فطرت ہی ایسی ہے کہ وہ زخم قبول نہیں کرتی۔ چنانچہ وہ بجھ کر، مر کر بھی اسی حسرت کو دل میں لیے رہ گئی — یہ عاشق کی اُس تڑپ کی علامت ہے جو محبوب کے ہاتھوں مٹنے کی خواہش میں ہی ادھوری رہ جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev17 / 17