آئے بھی لوگ بیٹھے بھی اُٹھے بھی کھڑے ہوئے — خواجہ حیدر علی آتش
“People came and sat, then rose and stood to leave, I kept on searching for you, left behind in your assembly.”
معنی
لوگ آئے، بیٹھے، پھر اُٹھے اور کھڑے ہو کر چلے گئے؛ میں تجھی کو ڈھونڈتا ہوا تیری محفل میں ہی رہ گیا۔
تشریح
اس شعر میں ایک محفل کا منظر ہے — لوگ آتے ہیں، بیٹھتے ہیں، پھر اُٹھ کر چلے جاتے ہیں، یہی زندگی کی آمد و رفت ہے۔ مگر شاعر اُسی ہجوم میں اپنے محبوب کو ڈھونڈتا رہ گیا، اور سب کے جانے کے بعد بھی وہیں ٹھہرا رہا۔ یہ اُس عاشق کا حال ہے جو دنیا کی ہلچل سے بے خبر صرف ایک چہرے کی تلاش میں گم ہے — تلاش پوری نہ ہوئی، مگر وفا اور انتظار باقی رہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
