نکالا چاہے اے غواض تو جلد اب نکال اس کو — خواجہ حیدر علی آتش

نکالا چاہے اے غواض تو جلد اب نکال اس کو خدا جانے کہ کیا پھونکے صدف کے گوش میں دریا

“If you would draw it out, O diver, draw it out now with speed— who knows what the sea may whisper in the oyster's ear?”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

اے غوطہ خور، اگر تو اس موتی کو نکالنا چاہتا ہے تو اب جلد نکال لے، کیونکہ خدا جانے دریا سیپ کے کان میں کیا پھونک دے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر غوطہ خور کو پکار کر کہتا ہے کہ اگر موتی نکالنا ہے تو جلدی نکال لے، دیر نہ کر۔ خوبصورت منظر یہ ہے کہ صدف اپنے اندر قیمتی موتی سنبھالے بیٹھی ہے، مگر سمندر جانے کب اس کے کان میں کچھ پھونک کر سب کچھ بدل دے۔ دراصل یہ موقعے کی نزاکت کا بیان ہے — جو سرمایہ ہاتھ میں ہے اسے وقت رہتے سنبھال لو، کیونکہ قسمت کے سمندر کی لہریں پل بھر میں رخ بدل سکتی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.